نبیؐ کی آمد، بہار آئی، دلوں میں تازہ پیام آیا
جہاں میں پھیلا، ضیا کا عالم، لبوں پہ اُن کا ہی نام آیا
درود پڑھ لو، سلام بھیجو، یہ لمحۂ احترام آیا
جھکاؤ نظریں، بچھاؤ پلکیں، نبیؐ کا ذکرِ دوام آیا
سیرتِ سرورؐ چراغِ منزل، حیات کا اک نظام آیا
محبتوں کا سبق سکھانے، نبیؐ کا پیغامِ عام آیا
یتیم و مسکیں کو پیار دے کر، کرم کا روشن مقام آیا
اندھیری دنیا میں حق کی خاطر، ہدایتوں کا پیام آیا
نبیؐ کی عظمت پہ دل ہے قرباں، زباں پہ صبح و شام آیا
پیرِ حقیرؔ کے لب پہ آقا ﷺ، درود و صد سلام آیا
ہزاروں لاکھوں درود اُن پر، سلام اُن پر مدام آیا
تیرے ساتھ جو بیتے تھے پل، میں بھلا دوں کیسے
تیری خوشبو سے مہکتے گل، میں بھلا دوں کیسے
تو مجھے چھوڑ کے جانے کی ابھی جلدی نہ کر
تیرے انتظار میں گزرے کل، میں بھلا دوں کیسے
تیرے ہجر میں جو دل پہ قیامت سی رہی
وصل کی ساعتوں کی وہ ہلچل، میں بھلا دوں کیسے
تیرا رخ مثلِ مہِ تاباں، وہ گھنی زلفوں کی رات
تیری سبز آنکھوں کا وہ کاجل، میں بھلا دوں کیسے
جن سے چاہت ہو مجھے سارے زمانے سے زیادہ
ان کے خوابوں سے بندھا یہ دل، میں بھلا دوں کیسے
اب کسی صبر کی امید نہیں اے پیرؔ میرے
وہ سلگتے ہوئے جذبات، وہ بادل، میں بھلا دوں کیسے